"جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی"

ٹاس جیتو بنا جھجکے بلے بازی کا عندیہ۔ پاورپلے سے زیادہ سے زیادہ رنز بٹورنے کی کوشش۔بیس سے چالیسویں اوور تک سٹرائیک روٹیٹ کرو،وکٹس بچاؤ،ایک آدھ باؤنڈری مل جائے تو غنیمت۔ آخری دس اوورز میں ہر جارحیت کا مظاہرہ کرو اور سات سے دس تک کی اوسط سے رنز بناؤ۔ کل ملا کر دو سو پچاس سے زائد کا آکڑا عبور کر لو دو سو ستر تک پہنچ گئے تو کیا ہی بات اور تین سو بورڈ پر لگ جائیں تو مال غنیمت کے مترادف۔
اوپنرز محتاط ہو کر کھیلیں،وکٹس ضائع کرنے سے بچائیں پہلے دس اوورز سے چالیس سے پچاس کے درمیان رنز بنائیں۔اوپننگ یا دوسری تیسری وکٹ کی ایک اچھی مگر سست پارٹنر شپ۔اسی دوران مطلوبہ رن ریٹ بتدریج بڑھتا ہوا۔آخری پندرہ اوورز میں سات سے آٹھ کے درمیان کی اوسط درکار۔ سیٹ بلے بازوں اور شبنم کی امید پر جوابی حملے کی کوشش۔ اس دوران پچ کا سلو ہوتے جانے۔آخری حملے میں اگر ایک سیٹ بلے باز اپنی سینچری مکمل کردیا تو ٹھیک ۔ ورنہ منی کولیپس جس سے رنز کی اوسط مزید بڑھنا اور آخر میں بیس سے تیس رنز کے فرق سے میچ ہار جانا۔
یہ رہی مختصر کہانی جنوبی افریقہ اور انڈیا کی سیریز کی،جی نہیں!ایسا نہیں ہے۔ البتہ پہلے تین میچز میں قریب قریب ایسا ہی ہوا ہے۔یہ ذکر ہے اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے وسط تک کھیلے جانے والے کلاسک ایک روزہ میچز کا تاوقتیکہ پاورپلے کے قوانین میں تبدیلی آئے اور وکٹس فلیٹ سے فلیٹ تر ہوتی گئیں۔پھر کرکٹ کو کھیلنے کے انداز بدلتے گئے اور اور عشرے کی تبدیلیوں کیبعد آج کرکٹ وہی جا رکی ہے۔ 
ون ڈے کرکٹ میں اکیسیویں سے چالیسویں اوور تک کا کھیل ہمشہ سے بحث کا شکار رہا۔اس دورانیہ میں رنز کے رفتار تقریباً منجمد ہوتی جاتی ایک آدھ باؤنڈری آتی،اور اس سستی کا براہ راست اثر تماشائی پر پڑھتا تھا۔ جسکو دلچسپ بنانے کے آئی سی سی نے پاورپلے کے نئے قوانین متعارف کروائے پہلے دائرے کے 50 اوورز کو توڑ کر 10،5،5 کے تین پاورپلے میں بدلا گیا، پھر ان میں سے ایک پاورپلے کو باؤلنگ کو اور تیسرے کو بیٹنگ ٹیم کی مرضی سے استعمال کیا جانے لگا۔پھر ان  کے استعمال کے وقت پر بھی تبدیلیاں کی گئی آخر میں وہی 15 اوورز دائرے کے رہ گئے جن میں سے پہلے 10 تو لازمی جبکہ 5 اوور کا ایک پاورپلے بیٹنگ ٹیم کی مرضی سے لیا جاتا جسکو 35ویں اوور  سے پہلے لینا لازم تھا۔پاورپلے کے قوانین کے متعلق ایک لطیفہ نما بات شئیر کرتا چلوں کہ جب پہلی دفعہ پاورپلے کا قانون بدلا گیا تو میرے ایک کزن نے یوں تبصرہ کیا"اسکی وجہ یہ ہے چونکہ ایشین ٹیمز اس پاورپلےسے زیادہ فائدہ اٹھاتی ہیں اور گوری چمڑی والوں کو اس سے مسئلہ ہوتا تبھی انہوں نے یہ قانون تبدیل کیا"۔یہ بات درست کے کالو اور سنتھ پہلے پہل فیلڈرز کے دائرے میں ہونے کا فائدہ اٹھانا شروع کیا جسکو بعد میں سہواگ، ٹنڈولکر نے بام عروج تک پہنچایا ۔ سہیل اور سعید بھی اس سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور سعی کرتے تھے۔لیکن پھر بھی یہ مضحکہ خیز تبصرہ لگتا ہے اور ایسے تبصرے سننے میں آتے ہی رہتے ۔

کھیل کو دلچسپ بنانے کے چکر میں پاورپلے کیساتھ ساتھ فیلڈنگ کے قوانین میں بھی تبدیلیاں کی گئی،باؤنڈری آئے روز چھوٹی سے چھوٹی ہوتی چلی گئی۔ مزید برآں پچوں کو بلکل سڑک کی طرز پر بنایا جانے لگا کہ یوں محسوس ہوتا تھا گویا آپ سمٹڈ وکٹ پر کھیل رہے اور آپ شاہد آفریدی کی مانند بھی شاٹ کھیلیں گے تو گیند تماشائیوں میں ہی جا گرے گی۔ ان قوانین کی وجہ سے بلے باز جہاں" چوپڑیاں اور دو دو" کے مترادف موجیں لٹ رہے تھے اور آئے روز ناممکن سے ناگزیر ریکارڈ تک بناتے جا رہے تھے۔جبکہ دوسری طرف باؤلرز کے کھاتے میں ایسے ہی ریکارڈز آتے جنکی وجہ سے انکا نام ریکارڈز بک میں تو شائد ہمیشہ زندہ رہ جائے لیکن بحیثیت باؤلر وہ انکو سننے کے بھی شائد روادار نہ ہوں ۔ان سب قوانین کی مدد سے تمامی ٹیموں نے خوب لطف و فائدہ اٹھائے ماسوائے ٹیم گرین کے۔ہوسکتا ہے وہ رواداری کے قائل ہوں یہ کوئی اور وجہ رہی ہو اس سب عرصے میں لیکن ٹیم گرین  نے روایتی کرکٹ کو برقرار رکھا جس پر آئی سی سی اور کرکٹ فینز کو انکا شکریہ ادا کرنا چاہئیے۔

اسی و نوے کی دہائی نے کرکٹ کو بیشمار ہیرے عنایت کئے۔جن میں بلے باز اور باؤلرز دونوں ہی شامل ہیں لیکن اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی جیسے کرکٹ سے اچھے باؤلرز اٹھا لئے گئے ہوں۔ چونکہ "تلخ تھے بہت بندہ باؤلر کے ایام" کھیل کے تمام قوانین براہ راست بلےبازی کو فائدہ دے رہے تھے۔لہذا غالباً نئے آنے والے کھلاڑیوں  کا رجحان بلےبازی کیطرف زیادہ ہوگیا ہو یہی وجہ ہے باؤلنگ کے شعبے میں چند ایک قابل ذکر نام ہیں۔جبکہ بلے بازی میں دیکھا جائے توایک طویل فہرست ہے۔ جنکے متعلق کہا جا سکتا کہ جب یہ ریٹائر ہونگے ریکارڈ بکس پر چھاپ چھوڑ کر جائینگے جبکہ کسی باؤلر کے متعلق ایسی رائے دینے سے قبل کئی دفعہ سوچنا پڑتا ہے۔

آئی سی سی ان تمام برسوں میں کوشش ایک روزہ کرکٹ کو دلچسپ بنانے کی تھی۔لیکن اس خواہش میں انہوں نے کھیل کو یکسر یکطرفہ کر دیا تھا۔پچھلے ماہ قوانین کی تبدیلی کے بعد باؤلرز کی جان میں جان آئی اور آئی سی سی کے لئے یہی کہوں گا "جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی"۔بلاشبہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ آنے کیبعد پچاس اوورز پر مشتمل میچ سست اور بورنگ لگتا تھا۔لیکن اسکو تیز کرنے کے چکر میں اس طرز کی کرکٹ سے اسکا اصل حسن چھین لیا گیا تھا۔جسکے بعد یہ فارمیٹ کافی حد تک دھوم دھڑکے والا تو ضرور ہوگیا لیکن اپنی جاذبیت،اپنا حسن کھوتا چلا گیا۔ ایک روزہ کرکٹ کا اصل لطف یہی ہے کہ بلے بازوں کو رنز بنانے کے لئے جوجنا پڑے باؤلرز کو وکٹس نہ ملیں لیکن انکو یہ ضرور محسوس ہو کہ وکٹ میں کچھ ہے جس کے وہ ہمت کریں،زور لگائیں ۔بلےباز کو معلوم ہو ہر ایری غیری گیند پر شاٹ نہیں کھیلنی،بلکہ اپنی وکٹ کو بچا کر رنز تلاش کرنے ہیں۔ اسی کشمکش کا نام ون ڈے کرکٹ ہے اور اگر اس طرز سے یہ کشمکش چھین لی جائے تو رنز کے انبار ضرور لگ جائینگے لیکن کھیل  بور سے بور تر ہوتا چلا جائے لہذا آئی سی سی سے گزارش ہے غصہ چھڈو تے کرکٹ تے رحم کرو تہاڈی مہربانی۔



1 تبصرے:

Click here for تبصرے
22 اکتوبر، 2015 10:55 PM ×

:-bd

Selamat Shaheer Malik dapat PERTAMAX...! Silahkan antri di pom terdekat heheheh...
Balas
avatar
admin
تبصرہ کرنے کے لیئے شکریہ۔