"لیزا بو" سے "سرکنڈوں کے پیچھے" تلک!!!

بلاگ کے نام سے ہرگز مت گھبرائیں میں آپکو تعارف کروائے دیتا ہوں (اگر پہلے ناواقف ہیں تو) بلکہ تعارف کروانے کی ہی غرض سے ہی تو بلاگ لکھ رہا۔اور اگر سچ کہوں تو بلاگ اسلئے لکھ رہا کہ انگلیوں میں کھجلی سی محسوس ہو رہی تھی جو کہ کی بورڈ پر مارنے کے بعد جو الٹے سیدھے بے ربط و معنی الفاظ کے پیدا ہونا پر کچھ  کم ہوگی۔لہذا آپکے وقت نکالنے پر پیشگی مشکور ہوں۔
بقول شخصے "پہلے ذکر اس پری وش کا پھر بیاں ہمارا" تو پھر ذکر چائینز-امریکن پری وش  "لیزا بوا" کا۔جو کہ ٹیڈ ٹالک سے وابستہ ہیں۔اور کتابوں کی بیحد دلداہ ہیں جسکی بنا پر ٹیڈٹالک نے انکی بھی ایک ٹالک پیش کی جو کہ خود میں نہایت دلچسپ ہے۔ لیزا بو بتاتی ہے وہ چائینز اوپرا سنگر بننا چاہتی تھی جبکہ انکی ماں کے نظریے کیمطابق بدلتے ہوئے معاشی حالات میں ایک اچھی تنخواہ والی مستقل نوکری ہی "خوشی"(خوشگوار زندگی) کی واحد ضامن ہے جبکہ اس نے اپنے تئیں اپنی خواہش پوری کرنے کی کوشش کی لیکن پندرہ سال کی عمر میں جب اسکو معلوم ہوا کہ اب ایک اوپیرا سنگر بننا ممکن نہیں چونکہ اسکے لئے چھوٹی عمر سے ہی مشق کی ضرورت تو اسنے اپنے خواب کے مرنے کیبعد کتابوں سے رجوع کیا جنہوں نے اسے زندگی کے لئے نئی راہیں اور امنگیں دکھلائیں۔ ٹالک میں وہ بتاتی ہے کہ مختلف کتابوں سے اسنے کیا سیکھا وغیرہ وغیرہ لیکن میرے لئے جو دلچسپ ترین بات  تھی وہ یوں تھی کہ لیزا بو جبکہ امریکہ منتقل ہوئی اسنے نقشہ دیکھا جی بلکل دنیا کا نقشہ تو اسمیں چائینہ بلکل ایک کونے میں تھا جبکہ چائنہ میں جو نقشہ دکھایا اور پڑھایا جاتا تھا اسمیں چائنہ دنیا کے وسط میں تھا۔ یعنی چائنہ دنیا کا محور قرار دیا جاتا تھا۔
یہاں ایک منٹ توقف کریں اور "سرکنڈوں کے پیچھے" سے جانکاری حاصل کرلیں اگر نہیں ہے تو جی یہ "سعادت حسن منٹو" صاب کا ایک افسانہ ہے جسمیں ایک عورت(طوائف) جو کہ اپنی بیٹی کو (جو کہ شائد اسکی بیٹی ہے بھی یا نہیں) چھوٹی عمر سے ہی لیکر بستی سے دور سرکنڈوں کے پیچھے لیجا کر رہنا شروع کر دیتی ہیں۔ وہ تمام عمر اس لڑکی کو کسی سے نہیں ملنے دیتی یہاں تک کہ وہ سن بلوغت کو پہنچ جاتی ہے۔ اور وہ اس سے بھی طوائف کا کام لینا شروع کر دیتی لیکن وہ انتہائی چالاکی سے صرف چار/پانچ مردوں کو رسائی دیتی ہے اس تک۔ اور انکی ترتیب یوں رکھتی ہے ایک کو دوسرے کا علم نہیں ہوتا۔  اور لڑکی اسی کو عائلی زندگی سمجھ بیٹھتی ہے۔ چونکہ اس نے ساری زندگی میں نہ تو کوئی خاندان دیکھا ہے نہ کوئی مرد و زن۔ ناں ہی اسے اس قسم کی کوئی معلومات ہے۔ یعنی اسکی ماں اسکو ایک خاص سوچ کیساتھ دنیا سے الگ رکھ کر اپنے فائدہ کے لئے استعمال کرتی ہے۔ باقی اس افسانے میں کیا ہوتا ہے وہ جاننے کے لئے آپ منٹو صاب کی کسی  کتاب سے رابطہ کریں میں واپس اپنے بلاگ پر آتا ہوں۔
تو جب میں نے لیزا بو کا ٹیڈٹالک سنا تو میں بقول چچا تارڑ "حیران، پریشان بلکہ جنگل بیابان" رہ گیا کہ چائنہ کو کیا ضرورت ہے خود کو دنیا کا محور قرار دینے سے اس سے کیا حاصل؟؟؟ تو سوائے اس بات کہ یہ بلکل اسی طرح کی سوچ ہے جیسے ہم مسلمانوں/پاکستانیوں کو ایک خاص تاریخ پڑھائی جاتی اور انکی عظنت رفتہ کا تذکرہ کرکے یہ ثابت کیا جاتا ہے دنیا میں جو کچھ بھی صرف ہمی کے دم سے ہے اور کچھ نہیں اور ہم انہیں سوچوں کو لیکر کنویں کے مینڈک بنے پھرتے ہیں۔ ہماری سوچ اپنی ناک سے آگے بڑھتی ہی نہیں چونکہ اس سے آگے ہمیں نا کچھ نظر آتا ہے اور ناں ہی ہم کچھ دیکھنا چاہتے ہیں۔جبکہ دنیا "علم" کا اتنا بڑا سمندر ہے کہ اسمیں سے جتنے مرضی موتی چُن لو کم نہیں ہونگے بلکہ بڑھتے ہی جائینگے۔ اور موتیوں کو چننے کا ایک ہی راستہ ہے کتاب۔ کتاب کی اہمیت میں کوئی قول اس بلاگ کا حصہ بناؤں گا اور ناں ہی اسلامی نقطہ نظر سے اسکی اہمیت جتلانے کی کوشش کروں گا بس یہی کہوں گ وہ پہلا لفظ جو وحی کی صورت میں اتارا گیا وہ "اقراء" تھا۔ اقراء مطلب پڑھ ۔ اب پڑھنے مطلب الگ ہو سکتے ہیں ذرائع مختلف ہو سکتے۔ میڈیم سیپریٹ ہو سکتے۔  لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ساری زندگی خود کو ایک مخصوص سوچ کا تابع کر کے گزار دیں۔
مجھے کبھی کبھی سخت حیرت ہوتی ہے جب یہ کہہ کر اپنا دامن چھڑا لیا جاتا ہے کہ یہ سب یہودی سازش اور امریکی منصوبہ بندی ہے۔ میں سخت کوفت کا شکار ہوتا ہوں کہ کیسے ایک شخص جس نے زندگی میں کبھی گاؤں سے باہر قدم نہیں رکھا یہ فیصلہ کر لیتا ہے اور اس کو اٹل حقیقت مان کر جیئے چلے جاتے ہیں۔ بھئی سازش کرنی اتنی ہی آسان ہے تو آپ کر کے دکھا تو ذرا "دیوار برلن" ہی پھر سے تعمیر کروا دو یا پھر جرمنی کو پھر سے کسی "ڈکٹیر" کے حوالے کر دیکھاؤ اور نہیں تو روس کو "سرخوں" کی طرف واپس دھکیل کر دیکھا دو۔ یہ سب کرنے کے لئے بھی کتاب کا ہی رخ کرنا پڑھتا ہے جب تک کتاب سے دور رہا جائے گا ان باتوں کے متعلق سوچنا بھی بیکار ہے۔
اب اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ اگر کتاب پر ہی لیکچر جھاڑنا تھا آیا تو پھر لیزا بو کے تعارف کی کوفت اور سرکنڈوں کے پیچھے کی "فحاشی" سے ہمیں آگاہ کرنے کی کیا تک تھی۔ تو آپ بلکل صحیح سوچ رہے ہیں۔ پہلے جب میں نے یہ افسانہ پڑھا تو اسے محض ایک تخیل قرار دیکر آگے نکل گیا اور سوچا کہ ایسا کیسے ممکن ہے لیکن جب لیزا بو کی ٹالک سنی تو پھر غور کیا اور معلوم پڑا کہ ہاں حقیقت میں ایسا  ہی ہمیں دنیا سے الگ رکھا جا رہا ہے۔ اور ہمیں بس یہی سیکھایا جا رہا ہے کہ بس آپ اچھے ہو باقی دنیا میں جو ہو رہا ہے وہ غلط سائنس الٹ راہ پر گامزن ہے۔اتنی تحقیق کرنی کی کیا ضرورت ہے یہ دنیا تو فانی ہے ایک دن یہاں سے کوچ کر جانا ہے وغیرہ وغیرہ یعنی مجموعی طور پر ہم نے بھی خود کو سرکنڈوں کے پیچھے ہی چھپا رکھا ہے۔ بس فرق اتنا ہے ہمیں ساتھ آنکھوں پر پٹی باندھ کر بھی رکھا جا رہا ہے۔
تحریر لمبی ہوتی جا رہی اسلئے ایک آخری بات شئیر کرنا چاھوں گا کہ حالیہ دنوں منٹو فلم کے ریلیز ہونے کیبعد میری ایک کزن نے مجھے سے منٹو صاب کی کتاب مانگی۔میں نے اس سےکہا بھی تم ابھی یہ کتاب رہنے دو کچھ اور پڑھ لو لیکن اسنے اصرار کیا اور دو دن بعد جو مجھے میسج موصول ہوا اور عزت افزائی کی گئی اسمیں سب سے چھوٹے درجے کا لقب بدتمیز تھا۔ اور کہاں گیا کہ ایسی فحش کتابیں پڑھتے ہوں کیونکہ اتفاق سے اس کتاب کے ابتدائی افسانوں میں  "ٹھنڈا گوشت"،"کالی شلوار" اور "کھول دو" وغیرہ  تھے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے آگے اس نے پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی بلکہ اس کو بھی ٹھیک سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہوگی۔ یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے کہ  ہو سکتا ہے آپکو یہ کتاب بلکل پسند نہ آئے لیکن پھر بھی بقول استاد جی ٗ" کتاب کچھ نہ کچھ ضرور سیکھاتی ہے" آپ اسکو پڑھیں۔ ایک مشہور انگلش مقولہ ہے کہ "کتاب کو کبھی اسکے کور سے جج نہ کریں"۔ اور بقول انگل سرگم
کتابیں باتیں کرتی ہیں ہمارا جی بہلانے کی
کبھی اگلے زمانے کی کبھی پچھلے زمانے کی
اور کچھ نہیں تو جی بہلانے کو ہی کتاب پڑھ لیں مگر پڑھیں ضرور۔ اور آپکا اس بے ربط و بےمعنی بلاگ کا  پڑھنے کا ایک مرتبہ پھر سے  بیحد شکریہ بس یہی کہوں گا کہ "کنویں کے مینڈک" اور "گھڑے کی مچھلی" بننے سے احتزاز لازم ہے۔




1 تبصرے:

Click here for تبصرے
14 مئی، 2016 7:56 PM ×

بلاشبہ یہ ایک شاندار تحریر ہے۔ میں ہر کچھ ہفتوں بعد اس کو پڑھ کر لطف اندوز ہوا کرتا ہوں۔
خوش رہئے۔

Selamat آوارہ فکر dapat PERTAMAX...! Silahkan antri di pom terdekat heheheh...
Balas
avatar
admin
تبصرہ کرنے کے لیئے شکریہ۔