یہی تو وہ سحر ہے

چند روز قبل جب بلاگرز کی کوئی خیر خبر نہیں تھی، ایک جگہ چائے کا دور چل رہا تھا۔ جیسے جیسے چائے حلق سے نیچے اتر رہی تھی، گفتگو نئے موڑ لے رہی تھی۔ اور آہستہ آہستہ بات "گمشدہ افراد" تک جا ہی پہنچی۔ جیسے ہی اُن کا ذکر آیا ماحول نے عجیب اجنبیت کا لبادہ اُوڑھ لیا۔ یوں لگ رہا تھا  جیسے ہر کوئی اس بات سے کنی کترا رہا ہو، کوئی بھی اس پر بات کرنے کو تیار نہ تھا۔ میں  نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں  اُن پر بلاگ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حالانکہ ابھی میں نے یہ نہیں بتلایا تھا کہ میں اُنکے مخاصمت میں لکھنا چاہتا ہوں یا اُنکے حق میں۔ میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی سب نے یک زباں با آواز بُلند  فرمایا نہیں نہیں ابھی مت لکھنا۔ میں نے پوچھا کیوں بھئی ایسا کیوں ہے؟ کہنے لگے کہ کچھ دن قبل ہی لاہور بُلیو وارڈ میں اس وجہ سے مار پڑتے دیکھا ہے۔ مزید بھی اس طرح کی باتیں سننے کو مل رہی ہیں اسلئے فلحال اس معاملے پر خموشی ہی بھلی۔ اس بات کے بعد فضا میں پھیلنے والی خاموشی کے بعد میں نے وہاں سے اٹھنے ہی میں عافیت جانی۔ 

جب سے بلاگرز غائب ہوئے ہیں تب سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔  کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ انہیں ایجنسیوں نے غائب کیا اور بعض حلقے کہتے ہیں کہ انہوں نے خود کو خود ہی اغوا کر لیا۔ کچھ احباب کے نزدیک انکی سوچ غیر متوازن تھی تو بعضوں کے قریب بقول ایلیا صاحب وہ "شہر کے سب سے بڑے فسادی تھے"۔ جہاں ایک طرف انکی واپسی کے لئے "موم بتی" مافیا نے ریلیاں نکالی تو دوسری جانب "گھیراؤ جلاؤ" گینگ نے اُن پر فتووں کی برسات کی۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ درست یا غلط ہو سکتی ہیں۔ ان دو میں سے ہر ایک پر الگ الگ بات ہو سکتی ہے کہ آیا یہ بات درست ہے یا نہیں؟ لیکن  خوف کی اس فضا پر بات نہیں ہو سکتی۔بات کہنے سے ڈر لگنے  پر بات نہیں ہو سکتی۔ خیالات کے اظہار پر قدغن لگانے پر بات نہیں ہو سکتی جناب۔ جہاں وحشت جنم لے لیتی ہے وہ معاشرہ کبھی بھی پنپ نہیں سکتا۔ گھٹن زدہ ماحول میں بقا ممکن نہیں۔ برائے کرم جسکو مرضی قید کر لیں قلم کو ہرگز ہرگز مت قید کریں۔

اب میں جب یہ بلاگ لکھ رہا ہوں تو گمشدہ بلاگرز کی واپسی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سلمان حیدر کے بعد عاصم سعید بھی گھر واپس پہنچ چکے ہیں اور فلحال اُن دونوں نے اس معاملے پر کچھ نہیں کہا۔ بلاشبہ یہ خوش آئند بات ہے۔ میں انکے گھر والوں کو مبارک باد دیتا ہوں لیکن  اس موقع پر مبارک باد دینا چاہتا ہوں کہ جناب آپ جو کوئی بھی ہیں"مبارک ہو" آپ کامیاب ہو گئے۔ معذرت اگر ہم میں سے کبھی کسی نے 
"لازم ہے کہ ہم دیکھیں گے"
یا پھر 
" میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا"
وغیرہ یا ایسا کچھ بھی کہا ہو۔ آپ کو مبارک ہو آپ کامیاب رہے جناب۔ اب لکھنے  پر خوف،کہنے پر ڈر اور سننے پر ہو کا عالم طاری ہے۔ میں ایک دفعہ پھر سے کہتا ہوں مبارک ہو جناب بلکہ علامہ طاہر القادری صاحب کی طرز پر وکٹری کا نشان بنا کر کہتا ہوں جناب مبارک ہو، آپ جیت گئے سرکار۔  بقول شاعر
 "یہ داغ‌ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہی تو وہ سحر ہے"

5 تبصرے

Click here for تبصرے
31 جنوری، 2017 کو 12:17 AM ×

ہممم۔ زیادہ مزہ نہیں آیا جناب۔
یہ کونسی سحر ہے۔ وغیرہ وغیرہ
کہیں جناب نے بھی دامانِ احتیاط کو ملحوظ نہ رکھنے کے نتائج کو تو ملحوظ نہیں رکھ لیا؟

Balas
avatar
admin
31 جنوری، 2017 کو 12:53 AM × یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔
avatar
admin
31 جنوری، 2017 کو 1:10 AM ×

dekhain g hmain to ek e bat samj ae hai
k shair nay keh dea k
sabu sady khwab dewa deo
j kar khwab dewan nai sakdy
sanu sadiyan neenda lay deo

Balas
avatar
admin
31 جنوری، 2017 کو 9:13 AM ×

بہت شکریہ جناب چونکہ زیادہ مزہ نہیں آیا سے یہ قیاس کیا جا سکتا کہ کچھ مزہ آیا ہے۔
کرنا پڑتا ہے جی ملحوظ خاطر خیال ورنہ ہو جاتا
اور یہ سحر وہی ہے وغیرہ

Balas
avatar
admin
31 جنوری، 2017 کو 9:15 AM ×

تسی فئیر شاعر دی پوری نہیں جے سمجھے شاعر اے وی تے کہندا کہ
"ہندا نہیں کرنا پیندا اے
سُکھ دی خاطر دُکھ وی کرنا پیندا اے"

Balas
avatar
admin
تبصرہ کرنے کے لیئے شکریہ۔